2 دسمبر 2015 - 16:12
دین کی بقا اور فلسفہ کربلا : حجۃ الاسلام پناہیان

امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے دین کا پیغام اگلی نسلوں تک پہنچنے منتقل ہونے کو ممکن بنایا۔ اگر امام حسین علیہ السلام شہادت کا راستہ اختیار نہ کرتے تو یزید دین کی تعلیمات کو معاشرے سے مکمل طور پر ختم کر دیتا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا : تمام مومنین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے امام کی حفاظت کریں۔ خطرے کے وقت سب کو چاہئے کہ وہ اپنی جان زمانے کے امام پر نچھاور کر دیں۔ اسی طرح خود امام بھی شرعی طور پر اپنی جان کی حفاظت کا پابند ہوتا ہے۔ اپنی جان کی حفاظت کرنا امام کیلئے ایک الہی ذمہ داری ہے۔ تاریخ کے شدید بحرانی مواقع پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ائمہ معصومین علیھم السلام نے اپنی جان کی حفاظت کی ہے۔ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ امام معصوم کی جان محفوظ ہونی چاہئے اور خود ائمہ معصومین علیھم السلام نے بھی اس کے مطابق عمل کیا ہے۔ لیکن سانحہ کربلا میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ اگرچہ بعض اصحاب امام حسین علیہ السلام کے دفاع کیلئے جمع ہو چکے تھے لیکن ان کی تعداد اس قدر کم تھی کہ وہ انہیں شہید ہونے سے نہیں بچا سکے بلکہ صرف آپ کی شہادت کو کچھ گھنٹے تک تاخیر کا شکار کیا۔ ان اصحاب کی شہادت نے صرف واقعہ کربلا کو زیادہ پرجوش اور انقلابی بنا دیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام معصوم کن حالات میں حتی اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار ہو جاتا ہے؟ اس سوال کے کئی جواب دیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر:

 
1)۔ جب امام تنہا رہ جائے: یہ جواب درست نہیں کیونکہ جب ہم تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ زمانے کے لوگوں نے اکثر ائمہ کا ساتھ نہیں دیا اور وہ تنہا رہ گئے لیکن انہوں نے تقیہ اختیار کیا اور شہادت کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اگر وہ شہادت کا راستہ اختیار کرنا چاہتے تو ان کے زمانے میں بھی عمر بن سعد، شمر اور ابن زیاد جیسے بے شمار افراد موجود تھے۔ لیکن ائمہ علیھم السلام کا شرعی وظیفہ یہ تھا کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کریں اور خود کو شہید ہونے سے بچائیں۔ یہاں اس نکتے کو بیان کرنا ضروری ہے کہ ایک عام انسان کی جان کی حفاظت اور امام معصوم کی جان کی حفاظت میں بہت فرق ہے۔ لہذا ہمیں ہر گز اس سوال کو کہ "کس موقع پر امام معصوم اپنی جان نچھاور کر سکتا ہے؟" کو اس سوال سے کہ "کس موقع پر عام انسان اپنی جان نچھاور کر سکتا ہے؟" نہیں ملانا چاہئے۔ مثال کے طور پر بعض خاص مواقع پر امام معصوم یا ولی فقیہ افراد کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ ایک خاص مقصد کے حصول کیلئے اپنی جان کی بازی لگا سکتے ہیں۔ لیکن امام معصوم علیہ السلام کا مقام بہت مختلف ہے۔ خدا اتنی آسانی سے امام معصوم کو اپنی جان قربان کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ 

 
2)۔ جب دینی احکام پر عمل نہ ہو رہا ہو: ائمہ معصومین علیھم السلام کے دور میں اکثر پیش آتا تھا کہ لوگ دینی احکام پر عمل نہیں کرتے تھے اور امام معصوم علیہ السلام کی بھی نافرمانی کرتے تھے۔ جیسا کہ امام زین العابدین علیہ السلام کے دور میں یزید حکمران تھا اور دینی احکام پر توجہ نہیں دیتا تھا لیکن اس کے باوجود امام علیہ السلام نے اس کے مقابلے میں اپنی جان قربان نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ ہے امام معصوم علیہ السلام دین کا محور و مرکز ہیں اور ان کی جان کی حفاظت واجب ہے۔ 

 
3)۔ مظلوم کا دفاع: ائمہ معصومین علیھم السلام پر بہت زیادہ ظلم و ستم روا رکھا گیا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر ائمہ نے ظلم سے تنگ آ کر قیام نہیں کیا اور اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالی۔ اکثر ائمہ علیھم السلام کو مخفیانہ طور پر شہید کیا گیا۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے تمام ائمہ اور حتی ان کے غلام شہادت کے جذبے سے سرشار تھے لیکن اس کے باوجود معصوم کی جان کی حفاظت بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔ 

 
4)۔ دین کی بقا: وہ امر جس کیلئے امام معصوم اپنی جان تک فدا کرنے کو جائز سمجھتا ہے "دین کی بقا" ہے۔ خدا نے انسان کو آزاد اور بااختیار پیدا کیا ہے تاکہ وہ اپنی مرضی سے خیر یا شر کا راستہ انتخاب کر سکے۔ ہو سکتا ہے کسی زمانے کے لوگ ایسے ہوں جو دینی تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہونا چاہتے ہوں لیکن انہیں ہر گز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ آئندہ نسلوں کو بھی دین کی قیمتی تعلیمات سے محروم کر دیں۔ دین کو ہر حال میں باقی رہنا چاہئے۔ دین کی بقا کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ نسلوں تک دین کا پیغام پہنچنا ممکن ہو۔ لہذا وہ ذمہ داری جس کی خاطر امام معصوم حتی اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار رہتا ہے اگلی نسلوں تک دین کے پیغام کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ بعض اوقات ظالم حکمران نہ فقط دین اور دینی تعلیمات سے غافل اور ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے بلکہ دین کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ہر وہ شخص جس تک دین کا پیغام پہنچا ہے اس پر کسی قسم کی زبردستی نہیں کی جاتی بلکہ وہ دینی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے کا اختیار رکھتا ہے لیکن اسے یہ حق حاصل نہیں کہ دوسروں کو دین کا پیغام سننے سے محروم کر دے۔ اور اگر کوئی طاقت ایسا کرنے کی کوشش کرے تو امام معصوم اس پاکیزہ اور مقدس ہدف کی خاطر حتی اپنی جان قربان کرنے کو تیار نظر آتا ہے۔ 

 
امام حسین علیہ السلام نے دیکھا کہ اگر وہ اپنی جان کی حفاظت کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں دین مبین اسلام کے خاتمے کا خطرہ موجود ہے اور دین کا پیغام اگلی نسلوں تک نہیں پہنچ پائے گا لہذا انہوں نے دین کو زندہ رکھنے کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ اگر امام حسین علیہ السلام یزید کے خلاف قیام نہ کرتے تو یزید ہمیشہ کیلئے دین کا دروازہ بند کر دیتا۔ تمام انسانوں تک دین کے پیغام کو پہنچانا یا "ابلاغ دین" کی ذمہ داری ایک انتہائی اہم اور بھاری ذمہ داری ہے۔ قرآن کریم کی اکثر آیات میں اس ذمہ داری پر تاکید کی گئی ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تمام انسانوں تک دین کا پیغام پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ خدا نے کائنات کو انسان کیلئے خلق کیا ہے اور انسان کی نسل کو ہدایت کے راستے پر گامزن ہونے کی خاطر تسلسل اور دوام بخشا ہے۔ اگر انسانوں کی ہدایت کا امکان ختم ہو جائے تو تمام عالم ھستی کی خلقت اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو بھیجے جانے کا فلسفہ ختم ہو جاتا ہے۔ لہذا جب انسانی معاشرے میں ہدایت پانے کا امکان ختم ہونے لگتا ہے تو امام معصوم اپنی جان نچھاور کر دیتا ہے تاکہ انسانی ضمیر کو مرنے سے بچا لے۔ 

 
ایک اہم سوال:

ہو سکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ اگر امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے باوجود دین کا پیغام انسانوں تک نہ پہنچ پاتا تو امام حسین علیہ السلام کی قربانی ضائع ہو جاتی؟ 

اس کا جواب ہاں میں ہے۔ اگر امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد پیغام رسانی یا تبلیغ کا امکان ختم ہو جاتا تو آپ علیہ السلام کا خون ضائع ہو جاتا بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ عالم خلقت بے معنی ہو جاتا اور انسانوں کی ہدایت کیلئے خدا کا نظام مشکلات کا شکار ہو جاتا۔ لہذا امام معصوم اس وقت اپنی جان کی قربانی دیتا ہے جب "دین کی تبلیغ کا امکان" نابودی کے خطرے سے روبرو ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر امام معصوم نہ صرف اپنی جان نچھاور کر دیتا ہے بلکہ ایسے انداز میں قربانی دیتا ہے کہ انسانی معاشرے پر موثر واقع ہو۔ یعنی اس کی جان قربان ہونے سے دین کی تبلیغ کا امکان زندہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے امام حسین علیہ السلام نے اپنی قربانی کو موثر بنانے کیلئے اپنے خاندان کو بھی کربلا اپنے ہمراہ لائے۔ درحقیقت امام حسین علیہ السلام کے خاندان نے انسانی معاشرے تک ان کے خون کا پیغام پہنچنے کو یقینی بنایا۔ 

 
امام حسین علیہ السلام کے غم میں بہنے والے آنسووں کی قیمت:

امام حسین علیہ السلام کے اہلخانہ نے کربلا کا پیغام عام کرنے یعنی دین کی تبلیغ میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح امام حسین علیہ السلام اور شہدای کربلا کی مظلومیت پر گریہ و زاری کرنا بھی ایسے ہی ہے جیسے انسان امام حسین علیہ السلام کے مقصد اور مشن میں ان کے ساتھ شریک ہو۔ امام حسین علیہ السلام کا عزادار ان کے مشن میں شریک ہے اور کربلا کے پیغام کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔ ہم کیسے امام حسین علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت کے مشن میں ان کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں؟ گویا امام حسین علیہ السلام نے ہم سے فرمایا ہے کہ انسان کی ہدایت کا راستہ کھلا رکھنے میں میری ذمہ داری اپنا خون بہانا، اپنے علی اکبر اور عباس کا خون بہانا ہے جبکہ تمہاری ذمہ داری ہماری مظلومیت پر گریہ کرنا ہے۔ ہم اپنے گریہ کے ذریعے دین کی تبلیغ کے امکان کو زندہ رکھنے پر مبنی مشن میں امام حسین علیہ السلام کی نصرت اور مدد کرتے ہیں۔ 

 
امام حسین علیہ السلام پر گریہ کا اثر:

امام حسین علیہ السلام پر عزاداری کا اثر آج حزب اللہ لبنان اور فلسطین کی جہادی تنظیموں میں سرگرم جوانوں کے جذبہ شہادت کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ فلسطینی جوان جذبہ حسینی کے ذریعے اسرائیل کے ظلم و ستم کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ سب سید الشہداء علیہ السلام کی عزاداری کا ثمرہ ہے۔ اس عزاداری کی بنیاد خود امام حسین علیہ السلام نے رکھی۔ جب حضرت امام حسین علیہ السلام کو مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَ هَؤُلَاءِ (مسلم کے بعد زندہ رہنے میں کوئی مزہ نہیں)۔ آپ علیہ السلام نے مسلم بن عقیل کی شہادت پر گریہ کیا۔ 

اے مسلم بن عقیل، آپ تک و تنہا رہ گئے۔ ہم آج آپ کی بیعت کرتے ہیں اور آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارا نام اپنے وفادار ساتھیوں میں لکھ لیں۔ 

الا لعنت اللہ علی القوم الظالمین

۔۔۔۔۔۔۔

/169